کیا تم اسے بھول

کیا تم اسے بھول گئے وہ، جس نے تمہارے خوابوں میں آنکھیں اور تمہارے راستوں میں پاؤں زخمی کر لئے ڈھیلے ڈھالے لباس میں ملبوس…

ادامه مطلب

کوئی کھوج اپنے گیان سے ہے جڑا ہوا

کوئی کھوج اپنے گیان سے ہے جڑا ہوا مجھے خار خار میں رولنا ترے کھوج کا مجھے راکھ راکھ میں تولنا تری موج کا مری…

ادامه مطلب

کوئی پتھر کوئی الزام ترے شہر سے آئے

کوئی پتھر کوئی الزام ترے شہر سے آئے کوئی دھوکہ ہی مرے نام ترے شہر سے آئے ہم یہ چاہیں کہ تو چاہے ہمیں کھل…

ادامه مطلب

کون آئے گا؟

کون آئے گا؟ کالی رات اکیلا کمرہ روز کسی نادیدہ چاند کے سوگ میں ڈوبا اک اک لمحہ اک اک لمحہ خوفزدہ خاموشی کا تابوت…

ادامه مطلب

کھلاڑی

کھلاڑی خالی ہاتھوں اور کھوکھلی باتوں کا کھیل کھیلنے والے کبھی آؤ! اور ایک بار پھر کھیل کے دیکھو حیرت زدہ رہ جانے کے لئے…

ادامه مطلب

کن ویرانوں کا اسیر کر گئے ہو

کن ویرانوں کا اسیر کر گئے ہو مجھے راستے ہی بدلنے دیے ہوتے ذرا سنبھلنے دیا ہوتا مجھے کن زندانوں میں قید کر گئے ہو…

ادامه مطلب

کشتیاں ساحلوں پہ لوٹ آئیں

کشتیاں ساحلوں پہ لوٹ آئیں اس طرف دور تک سمندر تھا کیا کریں ہم تمہارے آوارہ بند گلیاں اگر نصیب میں ہوں طائران قفس نصیب…

ادامه مطلب

کسی بارے نہیں ہوا معلوم

کسی بارے نہیں ہوا معلوم اب کہاں ہے کوئی خدا معلوم زندگی مخمصہ ہے جینے کا سانس ہے گمشدہ ہوا معلوم اس کو بھی مجھ…

ادامه مطلب

کچھ نہ کچھ شور مچائیں گے ضرور

کچھ نہ کچھ شور مچائیں گے ضرور درد چپ چاپ تو جانے سے رہے زندگی تیرے یہی طور ہیں تو ہم ترا ساتھ نبھانے سے…

ادامه مطلب

کتنے ساون میرے ہر سو آجاتے ہیں

کتنے ساون میرے ہر سو آجاتے ہیں ہنستے ہنستے آنکھ میں آنسو آجاتے ہیں تیرا عکس نظر آتا ہے پانی میں تو چاند ستارے آپ…

ادامه مطلب

کبھی فاصلوں پہ کبھی قیام پہ زندگی

کبھی فاصلوں پہ کبھی قیام پہ زندگی میں نے ہنس کے لکھ دی تمہارے نام پہ زندگی میں شروع سے ہی تھا راہِ عشق پہ…

ادامه مطلب

کائنات

کائنات بس اک تجھ سانول کی ذات ہے اپنا کُل جہان باقی وہم گمان فرحت عباس شاہ (کتاب – من پنچھی بے چین)

ادامه مطلب

قلم اٹھایا اور بہت کچھ پھینک دیا

قلم اٹھایا اور بہت کچھ پھینک دیا میں نے دیکھا، فکر و ادراک اور شعور کی روشنی بانٹنے کے دعویدار اپنی اپنی پیچیدگیوں میں الجھے…

ادامه مطلب

فی زمانہ

فی زمانہ سر جھکا کر چلتے چلتے گردنیں خمیدہ ہو گئی ہیں بوجھ اٹھا اٹھا کر کمریں کچی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں سے آیا ہوں…

ادامه مطلب

فبئ الا ربّکما تکذّبان

فبئ الا ربّکما تکذّبان او میرے یار ہوا جب سے محبت پیار کا کاروبار ہے دل بیزار بہت بیمار کہ یہ بیوپار ہمیشہ ہی بنا…

ادامه مطلب

غم کا مارا کبھی نہ ہو کوئی

غم کا مارا کبھی نہ ہو کوئی بے سہارا کبھی نہ ہو کوئی جب ہر اک شخص ہو فقط دریا جب کنارا کبھی نہ ہو…

ادامه مطلب

عقل دے موٹے لوکاں وچ میں پھسیا جے

عقل دے موٹے لوکاں وچ میں پھسیا جے کتنے چھوٹے لوکاں وچ میں پھسیا جے جھوٹے ، چور ، منافق ، بد ، کمینے تے…

ادامه مطلب

عشق تیرے مسافروں پہ سدا

عشق تیرے مسافروں پہ سدا زندگی عمر بھر عذاب رہی فرحت عباس شاہ (کتاب – محبت گمشدہ میری)

ادامه مطلب

عجب طرح کا گھوم ہے

عجب طرح کا گھوم ہے معاشرہ ہجوم ہے گھروں میں بین گونجتے گلی گلی میں دھوم ہے یا ماہر گہن ہے خوش یا ماہر نجوم…

ادامه مطلب

صورتِ عکس محبت ہی نہ رکھا جائے

صورتِ عکس محبت ہی نہ رکھا جائے اب کوئی سنگِ ملامت ہی نہ رکھا جائے ہاتھ بڑھ آئے نہ کوئی کہیں ایوانوں تک شہر میں جرم…

ادامه مطلب

صداؤں کے بس میں کچھ نہیں ہے

صداؤں کے بس میں کچھ نہیں ہے سکوت تم ہی یہ بھید کھولو سکوت تم کوئی بات بولو کہو کہ کوئی گھٹن ہے اندر گھٹن۔۔…

ادامه مطلب

شہروں جیسی رونق ہے

شہروں جیسی رونق ہے ویرانوں کے باسی میں دھوپ اگانا چھوڑ بھی دو میری مٹی پیاسی میں کہاں تلک ساتھ آؤ گے اتنی زرد اداسی…

ادامه مطلب

شہر بے یقین

شہر بے یقین اماوَس کی آخری رات راستے بھی نصیبوں کی طرح ہوتے ہیں ممکن ہے تمہیں بھٹکا دیں میری طرح میں بھی تو بھٹکا…

ادامه مطلب

شعر چوری سے نہیں ، آتا ہے احساس کیساتھ

شعر چوری سے نہیں ، آتا ہے احساس کیساتھ تیری فطرت ہے کبھی مال کبھی ماس کیساتھ تو تعلق کو نبھاتے ہوئے مرجاتا ہے ختم…

ادامه مطلب

شام ویران ہے ہوا خاموش

شام ویران ہے ہوا خاموش کون اس شہر سے گیا خاموش ایک مدت سے لوگ بولتے ہیں ایک مدت سے ہے خدا خاموش آنکھ سے…

ادامه مطلب

شالا کِسے نُوں ناں لگّے

شالا کِسے نُوں ناں لگّے بُجھی ہوئی اَگ دا سیک فرحت عباس شاہ

ادامه مطلب

سودائی

سودائی ہر شام ڈھلے تم روز کسے گھر لے آتے ہو اس کے پیراہن کی دھجی اس کے جوتے کے تلوے سے ملتا جلتا تلوا…

ادامه مطلب

سُنو لوگو!

سُنو لوگو! اکیلا میں نہیں زخمی مرے جیسے ہزاروں ہیں جو اپنے ان گنت قاتل دکھوں کو اپنی اپنی پیٹھ پر لادے مسلسل ٹھوکریں قدموں…

ادامه مطلب

سکوتِ دل میں صدا ہو گیا کوئی نہ کوئی

سکوتِ دل میں صدا ہو گیا کوئی نہ کوئی نہ مل سکا تو دُعا ہو گیا کوئی نہ کوئی میں کس کو پوچھنے نکلوں کسے…

ادامه مطلب

سفر کا بار سفر کی اساس پر رکھا

سفر کا بار سفر کی اساس پر رکھا کہ ہم نے دل ترے دریائے پیاس پر رکھا الگ ہوا جو کبھی دکھ تری جدائی کا…

ادامه مطلب

سخت ویرانی کے ڈر سے نکلے

سخت ویرانی کے ڈر سے نکلے شام ڈھل آئی تو گھر سے نکلے تو نے اچھا ہی کیا چھوڑ دیا ہم ترے زادِ سفر سے…

ادامه مطلب

سَاون

سَاون ساون کی بنیاد میں کس کے آنسو ہیں؟ صدیوں پہلے شاید کوئی صدیوں بیٹھ کے رویا ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – من پنچھی…

ادامه مطلب

ساری دنیا سے کٹا ہوتا ہے

ساری دنیا سے کٹا ہوتا ہے جس کا ملبوس پھٹا ہوتا ہے ہم جو سو کر بھی اٹھیں تو فرحت جسم دردوں سے اٹا ہوتا…

ادامه مطلب

زہر کے ساتھ ساتھ ہی اس میں

زہر کے ساتھ ساتھ ہی اس میں سانپ کی سی ملائمت بھی ہے جو بظاہر تھا ہم وہی سمجھے اور وہ دل میں اور کوئی…

ادامه مطلب

زندگی سہمی ہوئی بوڑھی ہے

زندگی سہمی ہوئی بوڑھی ہے ہر کسی سے ہی ڈری رہتی ہے فرحت عباس شاہ (کتاب – سوال درد کا ہے)

ادامه مطلب

زمانے میں کوئی محرم نہیں ہے

زمانے میں کوئی محرم نہیں ہے ہمیں بھی فکر تم سے کم نہیں ہے بہت ہی بھیڑ ہے بے چارگی کی اداسی کے لیے موسم…

ادامه مطلب

تو کیوں نہ آج یہ کریں کہ پھُول لیں ، پھلیں کہیں

تو کیوں نہ آج یہ کریں کہ پھُول لیں ، پھلیں کہیں سمجھ میں آگئی ہو میری بات تو چلیں کہیں نظر نہ آئیں، عشق…

ادامه مطلب

سانوں شہر اِچ شغل بنڑانا، وے بیلیا اللہ دا ناں ہئیی

سانوں شہر اِچ شغل بنڑانا، وے بیلیا اللہ دا ناں ہئیی ساڈے ناں اُتے لوک ہسانا، وے بیلیا اللہ دا ناں ہئیی اسیں اُجڑے تے…

ادامه مطلب

ساڈی دل دے ہتھ مہار

ساڈی دل دے ہتھ مہار اسیں ڈھوڈھن نکلے یار اسیں ہسدے پھل غُلاب اسیں روندے زار قطار ساڈی جِت دا راز آسان اسیں کدی نہ…

ادامه مطلب

زندگی

زندگی غم کی عُمر طویل فرحت عباس شاہ (کتاب – دکھ بولتے ہیں)

ادامه مطلب

زندگی اور طرح سے ہمیں آتی ہے نظر

زندگی اور طرح سے ہمیں آتی ہے نظر بے خیالی میں تجھے چھو آئے تیری کملائی ہوئی یاد کے ہاتھ چوم آئی یونہی بے چینی…

ادامه مطلب

زخمی زخمی پلکوں پر

زخمی زخمی پلکوں پر زنجیروں کا شک گزرے سینے میں اک قتل ہوا آنکھیں خون آلود ہوئیں سوچوں کی صحراؤں میں آندھی چلتی رہتی ہے…

ادامه مطلب

روشنی کی کوئی کرن درکار

روشنی کی کوئی کرن درکار ہے خیالات کو سخن درکار اتنی بے حرمتی نہیں اچھی دل کی میت کو ہے کفن درکار گھومتا گھومتا نہ…

ادامه مطلب

روح کو ہجر کے کانٹوں سے گزارے تو سہی

روح کو ہجر کے کانٹوں سے گزارے تو سہی وہ تو خود چاہتا ہے کوئی پکارے تو سہی پھر یہ دیکھے کہ بھلا کون ہے…

ادامه مطلب

رنج دے کر ملال کون کرے

رنج دے کر ملال کون کرے اس قدر بھی خیال کون کرے کون جھیلے خموشیاں دل پر پتھروں سے سوال کون کرے سب کے ہاتھوں…

ادامه مطلب

رتیں

رتیں بے اعتبار تمہارے آنے سے بارشیں لوٹ آئی ہیں ساون مہربان ہو گیا ہے لگتا ہے وہ موسم بیت گیا ہے جب جسم پر…

ادامه مطلب

راستوں کی مرضی ہے

راستوں کی مرضی ہے بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے…

ادامه مطلب

رات کی کوکھ میں آوارہ پھرو

رات کی کوکھ میں آوارہ پھرو خواب گنو عشق کی چوٹ سے درماندہ تو تھے ہی دل و جاں ساکھ کی راکھ کے ہاتھوں میں…

ادامه مطلب

رات دن اور صبح شام سلام

رات دن اور صبح شام سلام یانبیؐ یا نبیؐ سلام سلام ہے عجب شاندار ذات تری خوبصورت تمہارا نام سلام ترے اک حرف مختصر پر…

ادامه مطلب

رات اک اور نیا ظلم ہوا

رات اک اور نیا ظلم ہوا خواب دیکھا نہ ترے نام کوئی گیت لکھا فرحت عباس شاہ (کتاب – شام کے بعد – اول)

ادامه مطلب