سر مارنا پتھر سے یا ٹکڑے جگر کرنا

سر مارنا پتھر سے یا ٹکڑے جگر کرنا اس عشق کی وادی میں ہر نوع بسر کرنا کہتے ہیں ادھر منھ کر وہ رات کو…

ادامه مطلب

سب کھا گئے جگر تری پلکوں کے کاو کاو

سب کھا گئے جگر تری پلکوں کے کاو کاو ہم سینہ خستہ لوگوں سے بس آنکھ مت لگاؤ آنکھوں کا جھڑ برسنے سے ہتھیا کے…

ادامه مطلب

زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے

زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے لخت دل کب تک الٰہی چشم سے ٹپکا…

ادامه مطلب

روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر

روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر جاتی ہے نسیم و گل کی نکہت جوں کر پیری آندھی سی میرؔ ناگہ آئی ہم برگ خزاں…

ادامه مطلب

رہتے تھے ہم وے آٹھ پہر یا تو پاس پاس

رہتے تھے ہم وے آٹھ پہر یا تو پاس پاس یا اب پھٹک نہیں ہے کہیں ان کے آس پاس تا لوگ بدگماں نہ ہوں…

ادامه مطلب

رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے

رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے پاس ناموس عشق تھا ورنہ کتنے آنسو پلک تک آئے تھے وہی سمجھا…

ادامه مطلب

رشک گلشن اگر تو ناز کرے

رشک گلشن اگر تو ناز کرے رنگ رو کو چمن نیاز کرے تیری ابرو جدھر کو مائل ہے ایک عالم ادھر نماز کرے

ادامه مطلب

رات پیاسا تھا میرے لوہو کا

رات پیاسا تھا میرے لوہو کا ہوں دوانہ ترے سگ کو کا شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو فکر ہے اپنے ہر بن مو…

ادامه مطلب

دیکھیے کب ہو وصال اب تو لگے ہے ڈر بہت

دیکھیے کب ہو وصال اب تو لگے ہے ڈر بہت کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت دل کی ویسی ہے خرابی کثرت…

ادامه مطلب

دوری میں اس کی گور کنارے ہم آ رہے

دوری میں اس کی گور کنارے ہم آ رہے جی رات دن جنھوں کے کھپیں ان میں کیا رہے اس آفتاب حسن کے ہم داغ…

ادامه مطلب

دن فصل گل کے اب کے بھی جاتے ہیں باؤ سے

دن فصل گل کے اب کے بھی جاتے ہیں باؤ سے دل داغ ہو رہا ہے چمن کے سبھاؤ سے پہنچی نہ باس گل کی…

ادامه مطلب

دل کی لاگ بری ہے ہوتی چنگے بھلے مر جاتے ہیں

دل کی لاگ بری ہے ہوتی چنگے بھلے مر جاتے ہیں آپ میں ہم سے بے خود و رفتہ پھر پھر بھی کیا آتے ہیں…

ادامه مطلب

دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھاؤں گا

دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھاؤں گا چہرے سے خونناب ملوں گا پھولوں سے گل کھاؤں گا عہد کیے جاؤں ہوں…

ادامه مطلب

دل غم سے خوں ہوا تو بس اب زندگی ہوئی

دل غم سے خوں ہوا تو بس اب زندگی ہوئی جان امیدوار سے شرمندگی ہوئی خدمت میں اس صنم کے گئی عمر پر ہمیں گویا…

ادامه مطلب

دل جو ناگاہ بے قرار ہوا

دل جو ناگاہ بے قرار ہوا اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا شب کا پہنا جو دن تلک ہے مگر ہار اس کے گلے…

ادامه مطلب

دل پہلو میں ناتواں بہت ہے

دل پہلو میں ناتواں بہت ہے بیمار مرا گراں بہت ہے ہر آن شکیب میں کمی ہے بیتابی زماں زماں بہت ہے مقصود کو دیکھیں…

ادامه مطلب

درویشی کی جو سوختگی ہے سو ہے لذیذ

درویشی کی جو سوختگی ہے سو ہے لذیذ نان و نمک ہے داغ کا بھی ایک شے لذیذ

ادامه مطلب

خیال چھوڑ دے واعظ تو بے گناہی کا

خیال چھوڑ دے واعظ تو بے گناہی کا رکھے ہے شوق اگر رحمت الٰہی کا سیاہ بخت سے میرے مجھے کفایت تھی لیا ہے داغ…

ادامه مطلب

فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو

فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو نکالا سر سے میرے جائے مو خار مغیلاں کو وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا…

ادامه مطلب

اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں

اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد ہمیں…

ادامه مطلب

حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے

حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے کیا پوچھتے ہو مرتے ہیں عاشق سارے مشہور ہے عشق نے لڑائی ماری اس پر کہ گئے…

ادامه مطلب

حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا میر تقی میر

حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں…

ادامه مطلب

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا میر تقی میر

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا فلک نے آہ تری رہ میں ہم…

ادامه مطلب

چپکے کھڑا ٹکڑے ہوتا ہوں ساری ہے الفت کی بات

چپکے کھڑا ٹکڑے ہوتا ہوں ساری ہے الفت کی بات تیغ نے اس کی کیا ہے قسمت یہ بھی ہے قسمت کی بات جان مسافر…

ادامه مطلب

جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے

جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے عید سی ہو جائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے دین و مذہب عاشقوں کا قابل پرسش…

ادامه مطلب

جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا

جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا رونا مرا سنو گے کہ طوفان کر رہا شب میکدے سے وارد مسجد ہوا تھا میں پر…

ادامه مطلب

جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم

جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم تو یہی آج کل سدھارے ہم مرتے رہتے تھے اس پہ یوں پر اب جا لگے گور…

ادامه مطلب

جہاں میں روز ہے آشوب اس کی قامت سے

جہاں میں روز ہے آشوب اس کی قامت سے اٹھے ہے فتنہ ہر اک شوخ تر قیامت سے موا ہوں ہو کے دل افسردہ رنج…

ادامه مطلب

جگر خوں کیا چشم نم کر گیا

جگر خوں کیا چشم نم کر گیا گیا دل سو ہم پر ستم کر گیا ان آنکھوں کو نرگس لکھا تھا کہیں مرے ہاتھ دونوں…

ادامه مطلب

جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر

جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر تھی جملہ تن لطافت عالم میں…

ادامه مطلب

جب جل گئے تب ان نے کینے کی ادا کی ہے

جب جل گئے تب ان نے کینے کی ادا کی ہے چال ایسی چلا جس پر تلوار چلا کی ہے خلقت مگر الفت سے ہے…

ادامه مطلب

جان اپنا جو ہم نے مارا تھا

جان اپنا جو ہم نے مارا تھا کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا کون لیتا تھا نام مجنوں کا جب کہ عہد جنوں ہمارا تھا…

ادامه مطلب

تیغ کی نوبت کب پہنچے ہے اپنے جی کی غارت میں

تیغ کی نوبت کب پہنچے ہے اپنے جی کی غارت میں عاشق زار کو مار رکھے ہے ایک ابرو کی اشارت میں گذرے گر دل…

ادامه مطلب

تھکے چارہ جوئی سے اب کیا کریں

تھکے چارہ جوئی سے اب کیا کریں کہو تم سو دل کا مداوا کریں گلستاں میں ہم غنچہ ہیں دیر سے کہاں ہم کو پروا…

ادامه مطلب

تکلیف باغ کن نے کی تجھ خوش دہاں کے تیں

تکلیف باغ کن نے کی تجھ خوش دہاں کے تیں دیتا ہے آگ رنگ ترا گلستاں کے تیں تنکا بھی اب رہا نہیں شرمندگی ہے…

ادامه مطلب

تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی

تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی خواہش ہو جسے دل کی دل دوں…

ادامه مطلب

تاروں کی جیسے دیکھیں ہیں آنکھیں لڑانیاں

تاروں کی جیسے دیکھیں ہیں آنکھیں لڑانیاں اس بے نشاں کی ایسی ہیں چندیں نشانیاں پیری ہے اب تو کہیے سو کیا کہیے ہم نشیں…

ادامه مطلب

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو رویئے

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو رویئے اب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سویئے رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں…

ادامه مطلب

پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا

پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا اس روئے دل فروز کا سب میں ظہور تھا کیا کیا عزیز خلع بدن…

ادامه مطلب

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گردباد…

ادامه مطلب

بے کسان عشق تھے ہم غم میں کھپ سارے گئے

بے کسان عشق تھے ہم غم میں کھپ سارے گئے باز خواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے بار کل تک ناتوانوں کو نہ…

ادامه مطلب

بہرفردوس ہو آدم کو الم کاہے کو

بہرفردوس ہو آدم کو الم کاہے کو وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو کہتے ہیں آوے گا ایدھر وہ قیامت رفتار چلتے…

ادامه مطلب

بن میں چمن میں جی نہیں لگتا یارو کیدھر جاویں ہم

بن میں چمن میں جی نہیں لگتا یارو کیدھر جاویں ہم راہ خرابے سے نکلی نہ گھر کی بستی میں کیوں کر جاویں ہم کیسی…

ادامه مطلب

برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بدگمان کا

برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بدگمان کا دیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا مت مانیو کہ ہو گا یہ بے درد اہل…

ادامه مطلب

بالیں پہ میری آوے گا تو گھر سے جب تلک

بالیں پہ میری آوے گا تو گھر سے جب تلک کر جاؤں گا سفر ہی میں دنیا سے تب تلک اتنا دن اور دل سے…

ادامه مطلب

بات شکوے کی ہم نے گاہ نہ کی

بات شکوے کی ہم نے گاہ نہ کی بلکہ دی جان اور آہ نہ کی گل و آئینہ ماہ و خور کن نے چشم اس…

ادامه مطلب

ایسے محروم گئے ہم تو گرفتار چمن

ایسے محروم گئے ہم تو گرفتار چمن کہ موئے قید میں دیوار بہ دیوار چمن سینے پر داغ کا احوال میں پوچھوں ہوں نسیم یہ…

ادامه مطلب

اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے

اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے شکل اپنی بگاڑ کر کڑھایا تونے جی میں نہ ترے حال نہ منھ پر کچھ رنگ اپنا یہ…

ادامه مطلب

اے پریشاں ربط دیکھیں کب تلک یہ دور ہے

اے پریشاں ربط دیکھیں کب تلک یہ دور ہے ہر گلی کوچے میں تیرا اک دعا گو اور ہے بال بل کھائے ہوئے پیچوں سے…

ادامه مطلب

آنے کی اپنے کیا کہیں اس گلستاں کی طرح

آنے کی اپنے کیا کہیں اس گلستاں کی طرح ہر گام پر تلف ہوئے آب رواں کی طرح کیا میں ہی چھیڑ چھیڑ کے کھاتا…

ادامه مطلب