اپنے جنوں کا پھر سروساماں ہے خواب خواب

اپنے جنوں کا پھر سروساماں ہے خواب خواب ان راتوں ایک زلف پریشاں ہے خواب خواب پھیلی ہوئی ہے یاد کی گلیوں میں چاندنی اک…

ادامه مطلب

یہاں معنی کا بے صورت صِلا نئیں

یہاں معنی کا بے صورت صِلا نئیں عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں ہیں سب اک دوسرے کی جستجو میں مگر کوئی کسی…

ادامه مطلب

وہ کارگاہ ہوں جو عجب نادرست ہے

وہ کارگاہ ہوں جو عجب نادرست ہے جو کچھ یہاں درست ہے بیجا درست ہے ہر چند خود وجود میں ہیں سو سخن مگر موجود…

ادامه مطلب

ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا

ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئی، میں نہیں گِنتا بھلا خود میں کب اپنا ہوں،…

ادامه مطلب

ہو بزمِ راز تو آشوبِ کار میں کیا ہے

ہو بزمِ راز تو آشوبِ کار میں کیا ہے شراب تلخ سہی ایک بار میں کیا ہے مآلِ کوہکنی بھی نہ ہو سکا حاصل نجانے…

ادامه مطلب

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے تیری فُرقت منائی جا رہی ہے نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے کہ اب سب سے نبھائی…

ادامه مطلب

میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھیرے

میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھیرے کون لمحوں کے رُو برو ٹھیرے نہ گزرنے پہ زندگی گزری نہ ٹھہرنے پہ چار سُو ٹھیرے ہے…

ادامه مطلب

مکاشفہ

مکاشفہ پناہ مانگو، پناہ مانگو! فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے تمام صدیوں…

ادامه مطلب

محبت میں وفا کا زہر کھا کر

محبت میں وفا کا زہر کھا کر میں اپنا فرض پورا کر چکا ہوں مجھے ہی پوچھنے کو آئے ہیں آپ مگر میں، میں تو…

ادامه مطلب

لَوحِ کتاب

لَوحِ کتاب مجھے قلم دو کہ میں تمہیں اک کتاب لکھ دوں تمہاری راتوں کے واسطے اپنے خواب لکھ دوں کتاب جس میں ہدایتیں ہیں…

ادامه مطلب

لازم ہے اپنے آپ کی امداد، کچھ کروں

لازم ہے اپنے آپ کی امداد، کچھ کروں سینے میں وہ خلا ہے کہ ایجاد کچھ کروں ہر لمحہ اپنے آپ میں پاتا ہوں کچھ…

ادامه مطلب

کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے

کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے یادِ یاراں یار، یاراں کیا ہوئے اب تو اپنوں میں سے کوئی بھی نہیں وہ پریشاں روزگاراں کیا ہوئے…

ادامه مطلب

کس سے اظہارِ مدعا کیجے

کس سے اظہارِ مدعا کیجے آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے ہو نا پایا یہ فیصلہ اب تک آپ کیا کیجیے تو کیا کیجے آپ…

ادامه مطلب

قطعات

قطعات ہے محبت حیات کی لذت ورنہ کچھ لذتِ حیات نہیں کیا اجازت ہے؟ ایک بات کہوں؟ وہ مگر خیر کوئی بات نہیں ٭ چاند…

ادامه مطلب

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو

عذابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو اک اور زخم کھا لوںاگراجازت ہو تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں میں جام منہ…

ادامه مطلب

شاید

شاید میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں شاید، جانِ جاں شاید کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو ہے…

ادامه مطلب

سزا

سزا ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں تم کون ہو یہ خود بھی…

ادامه مطلب

ستم شعار ، نشانے تلاش کرتے ہیں

ستم شعار ، نشانے تلاش کرتے ہیں کرو گلہ تو بہانے تلاش کرتے ہیں نشاط قصر نشینی کا تذکرہ نہ کرو ابھی تو لوگ ٹھکانے…

ادامه مطلب

رو بہ زوال ہو گئی مستیِ حال شہر میں

رو بہ زوال ہو گئی مستیِ حال شہر میں اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں یہ جو کراہتے ہوئے لوٹ رہے ہیں…

ادامه مطلب

ذکر بھی اس سے کیا بَھلا میرا

ذکر بھی اس سے کیا بَھلا میرا اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا آج مجھ کو بہت بُرا کہہ کر آپ نے نام تو…

ادامه مطلب

دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا

دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا خود کو ہلاک کر لیا خود کو فِدا نہیں کیا خیرہ سرانِ شوق کا کوئی…

ادامه مطلب

دل سے اب رسم و راہ کی جائے

دل سے اب رسم و راہ کی جائے لب سے کم ہی نباہ کی جائے گفتگو میں ضرر ہے معنی کا گفتگو گاہ گاہ کی…

ادامه مطلب

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا نیچے سے…

ادامه مطلب

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا میرے…

ادامه مطلب

جو رعنائی نگاہوں کے لیے سامانِ جلوہ ہے

جو رعنائی نگاہوں کے لیے سامانِ جلوہ ہے لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ…

ادامه مطلب

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے پہنچے گی جو نہ اُس تک، ہم اُس خبر میںہوںگے تھک کر گریں…

ادامه مطلب

تھی متاع نشاط جاں یہ گلی

تھی متاع نشاط جاں یہ گلی ہم نے کچھ دن یہاں گنوائے تھے جانے کس حال میں تھا میں اک شام لوگ کچھ پوچھنے کو…

ادامه مطلب

تعظیم محبت

تعظیم محبت ہے مجھ پر طعنہ زن خود میرا احساس تمنا اپنی قیمت کھو رہی ہے کہوں کیا، ہر پلک اِس بے خبر کی مری…

ادامه مطلب

پرتوِ تنویرِ سحر

پرتوِ تنویرِ سحر (23ویں مارچ 1957 یوم جمہوریہ پر) ناطقہ آج کہیں سر بگریباں تو ہوا نئے حالات کی توجیہہ کا ساماں تو ہوا لفظ…

ادامه مطلب

بلا کے وار ہوں یاران سر ہی جاتے ہیں

بلا کے وار ہوں یاران سر ہی جاتے ہیں میاں یہ زخم ہیں آخر کو بھر ہی جاتے ہیں ہے بات یہ کہ ترے التفات…

ادامه مطلب

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مُجھ کو یاد فرمایا گیا ہے عنایت کی ہیں نہ مُمکن اُمیدیں کرم ایجاد فرمایا گیا ہے ہیں ہم…

ادامه مطلب

اے صبح! میں اب کہاں رہا ہوں

اے صبح! میں اب کہاں رہا ہوں خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں سب میرے بغیر مطمئن ہیں میں سب کے بغیر جی رہا…

ادامه مطلب

استفسار

استفسار (16 دسمبر 1971، سقوط مشرقی پاکستان پر) کیا اسقدر حقیر تھا اس قوم کا وقار ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو…

ادامه مطلب

اپنی انگڑائیوں پہ جبر نہ کر

اپنی انگڑائیوں پہ جبر نہ کر مجھ پہ یہ قہر ٹوٹ جانے دے ہوش میری خوشی کا دشمن ہے تو مجھے ہوش میں نہ آنے…

ادامه مطلب

یہاں تو کوئی مَن چلا ہی نہیں

یہاں تو کوئی مَن چلا ہی نہیں کہ جیسے یہ شہرِ بَلا ہی نہیں ترے حسرتی کے ہے دل پر یہ داغ کوئی اب ترا…

ادامه مطلب

وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا

وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا آئینہ بے مثال کِس کا تھا سفری اپنے آپ سے تھا میں ہجر کس کا، وصال کس کا تھا…

ادامه مطلب

ہے فصیلیں اُٹھا رہا مجھ میں

ہے فصیلیں اُٹھا رہا مجھ میں جانے یہ کون آ رہا مجھ میں جونؔ مجھ کو جلا وطن کر کے وہ میرے بِن بھلا رہا…

ادامه مطلب

ہم شہیدِ خیال بے چارے

ہم شہیدِ خیال بے چارے گئے رانوں کے درمیاں مارے سخن آتا ہے اُس نفس لب پر جب زباں بولتی ہے انگارے صد ازل او…

ادامه مطلب

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں…

ادامه مطلب

میں دل کی شراب پی رہا ہوں

میں دل کی شراب پی رہا ہوں پہلو کا عذاب پی رہا ہوں میں اپنے خرابۂ عبث میں بے طرح خراب پی رہا ہوں ہے…

ادامه مطلب

مفروضہ

مفروضہ آرزو کے کنول کھلے ہی نہ تھے فرض کر لو کہ ہم ملے ہی نہ تھے کسی پہچان کی نظر سے یہاں اصل چہرے…

ادامه مطلب

مجھ میں، مجھ دل میں تو ڈھلا، تو جا

مجھ میں، مجھ دل میں تو ڈھلا، تو جا ہو میاں جی ترا بھلا، تو جا آپ اپنے سے کر کے اپنا سخن چھل گیا…

ادامه مطلب

لَوحِ عوام

لَوحِ عوام عوام کی آ گہی سے انکار کرنے والو، نظام کہنہ کے مردہ خانوں کے ظرف و مظروف اور تابوت بیچ کر اپنے جیب…

ادامه مطلب

لباس

لباس تجھ سے نہیں رہا ہے کوئی نامہ و پیام عرصہ گزر گیا ہے کہ بے التماس ہوں تجھ کو یقین آئے نہ آئے، یہ…

ادامه مطلب

کیا بتاؤں کہ سہہ رہا ہوں میں

کیا بتاؤں کہ سہہ رہا ہوں میں کرب خود اپنی بے وفائی کا کیا میں اسکو تیری تلاش کہوں؟ دل میں اک شوق ہے جدائی…

ادامه مطلب

کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں

کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں کون ہے بے قابو مجھ میں یادیں ہیں یا بلوا ہے چلتے ہیں چاقو مجھ میں لے ڈوبی جو…

ادامه مطلب

ق

ق حاصل کُن ہے یہ جہانِ خراب یہ ہی ممکن تھا اتنی عجلت میں پھر بنایا خدا نے آدم کو اپنی صورت پہ ایسی صورت…

ادامه مطلب

عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں

عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں کہ نہ اُس شخص کو بُھولیں نہ اُسے یاد رکھیں عہد اُس کُوچہِ دل سے ہے…

ادامه مطلب

شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں

شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں آج وہاں قوالی ہو گی جون چلو درگاہ چلیں اپنی گلیاں اپنے رمنے اپنے جنگل…

ادامه مطلب

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں نیند آنے لگی ہے فرقت میں ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر سوچتا ہوں تیری حمایت میں روح نے عشق…

ادامه مطلب