کچھ خوشی کے سائے میں اور کچھ غموں کے ساتھ ساتھ

کچھ خوشی کے سائے میں اور کچھ غموں کے ساتھ ساتھ
زندگی کٹ ہی گئی ہے الجھنوں کے ساتھ ساتھ
آج تک اُس کی تھکن سے دُکھ رہا ہے یہ بدن
اک سفر میں نے کیا تھا خواہشوں کے ساتھ ساتھ
کس طرح کھایا ہے دھوکا کیا بتاؤں میں تمہیں
دوستوں کے مشورے تھے سازشوں کے ساتھ ساتھ
کس طرح رکھے ہوئے ہیں چاند سورج اک جگہ
نفرتیں بھی پل رہی ہیں چاہتوں کے ساتھ ساتھ
اس دفعہ ساون میں تیری یاد کے بادل رہے
اس دفعہ میں خوب رویا بارشوں کے ساتھ ساتھ
وہ جنہیں میں دوست کہتا تھا بڑے ہی مان سے
صف بہ صف وہ بھی کھڑے تھے دشمنوں کے ساتھ ساتھ
شہر میں کچھ لوگ میرے چاہنے والے بھی ہیں
پھول بھی کچھ آ رہے ہیں پتھروں کے ساتھ ساتھ
کاش عاطفؔ لوٹ آئیں پھر وہی بچپن کے دن
بھاگنا پھولوں کی خاطر تتلیوں کے ساتھ ساتھ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *