دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں

دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں پردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں مدعا سامنے ان کے…

ادامه مطلب

ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور

ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور کیا گھر میں خدا اور ہے غربت میں خدا اور تم سامنے آتے ہو تو چھپتے ہو…

ادامه مطلب

پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہے

پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہے وہ اب تو خودبخود جامے سے باہر ہوتے جاتے ہیں نظر ہوتی ہے جتنی ان کو اپنے…

ادامه مطلب

حسن کی گرمئ بازار الٰہی توبہ

حسن کی گرمئ بازار الٰہی توبہ آگ سی آگ برستی ہے خریداروں پر ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیں

نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیں لب پہ شیون نہیں نالہ نہیں فریاد نہیں نازنیں کوئی نئی بات تو پیدا ہو کبھی ظلم…

ادامه مطلب

تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوں

تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوں تمھیں خود یہ کہہ دو برا چاہتا ہوں کوئی مول لے تو بکا چاہتا ہوں میں صاحب سے بندہ…

ادامه مطلب

درد اور درد بھی جدائی کا

درد اور درد بھی جدائی کا ایسے بیمار کی دعا کب تک ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

وہ کس پیار سے کوسنے دے رہے ہیں

وہ کس پیار سے کوسنے دے رہے ہیں بلائیں عداوت کی ہم لے رہے ہیں پڑے ہیں وہ عشرت کدے آج ویراں جہاں یار لوگوں…

ادامه مطلب

جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہم

جاتے ہو تم جو روٹھ کے جاتے ہیں جی سے ہم تم کیا خفا ہو خود ہیں خفا زندگی سے ہم کچھ ایسے بدحواس ہیں…

ادامه مطلب

خیر سے رہتا ہے روشن نام نیک

خیر سے رہتا ہے روشن نام نیک حشر تک جلتا ہے نیکی کا چراغ ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ

وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ کسی پہ تھا کوئی مبتلا تمہیں یاد ہو کہ…

ادامه مطلب

جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو

جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو یہ تھوڑی وضع داری ہے کہ دشمن آشنا تم ہو تباہی سامنے موجود…

ادامه مطلب

رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا

رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا کوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیا کچھ سہارا بھی ہمیں روز ازل نے نہ…

ادامه مطلب

ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں

ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں میرے غم خوار دل آزار بنے بیٹھے ہیں بات کیا ان سے کروں ان کے اٹھاؤں…

ادامه مطلب

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں گھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیں یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے…

ادامه مطلب

ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سے

ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سے عہد و پیماں ہیں یہی زیست میں پیمانے سے تو کہاں آئی مرا درد بٹانے کے…

ادامه مطلب

وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو

وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو وہ کچی آگ ہے جس میں دھواں ہو عدو تم سے تم ان سے بدگماں ہو تمھارے…

ادامه مطلب

چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار

چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

سمجھیں گے نہ اغیار کو اغیار کہاں تک

سمجھیں گے نہ اغیار کو اغیار کہاں تک کب تک وہ محبت کو محبت نہ کہیں گے ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

ہائے کافر ترے ہم راہ عدو آتا ہے

ہائے کافر ترے ہم راہ عدو آتا ہے کیا کہوں پاس یہ تیرا ہے کہ تو آتا ہے نکہت عطر میں بس بس کے جو…

ادامه مطلب

چونک پڑتا ہوں خوشی سے جو وہ آ جاتے ہیں

چونک پڑتا ہوں خوشی سے جو وہ آ جاتے ہیں خواب میں خواب کی تعبیر بگڑ جاتی ہے ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا

سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا کچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کا ہائے دل اور دل زار کے ہم سے برتاؤ…

ادامه مطلب

یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں اسے دیکھوں اسے

یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں اسے دیکھوں اسے دیکھوں تمہاری خود نمائی نے مجھے ڈالا ہے حیرت میں ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا

رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا نہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑا بلائیں ہی لے لے کے کاٹی شب وصل ستم گار نے…

ادامه مطلب

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھے

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھے ہیں جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے وہ اپنی شوخیوں…

ادامه مطلب

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھے

ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھے اور دو چار کے گھر آگ لگا کر اٹھے تم نے پہلو میں مرے بیٹھ کے…

ادامه مطلب

قہر ہے زہر ہے اغیار کو لانا شب وصل

قہر ہے زہر ہے اغیار کو لانا شب وصل ایسے آنے سے تو بہتر ہے نہ آنا شب وصل ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیا

ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیا مری تقدیر بن بن کر بدلتی ہے زباں کیا کیا مجھے گردش میں رکھتی ہے…

ادامه مطلب

کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے

کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے چھوڑ جاتے ہیں شگوفے کوئی جاتے جاتے شوق بن بن کے مرے دل میں ہیں…

ادامه مطلب

ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے

ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے اس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گے کہئے تو کہوں انجمن غیر کو روداد کیا اب…

ادامه مطلب

کس کی آشفتہ مزاجی کا خیال آیا ہے

کس کی آشفتہ مزاجی کا خیال آیا ہے آپ حیران پریشان کہاں جاتے ہیں ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا

بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا لے تجھے آزما کے دیکھ لیا تم نے مجھ کو ستا کے دیکھ لیا ہر طرح آزما کے…

ادامه مطلب

کوئی پوچھے تو سہی ہم سے ہماری روداد

کوئی پوچھے تو سہی ہم سے ہماری روداد ہم تو خود شوق میں افسانہ بنے بیٹھے ہیں ظہیر دہلوی

ادامه مطلب

بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپ

بگڑ کر عدو سے دکھاتے ہیں آپ بناوٹ کی باتیں بناتے ہیں آپ بڑھانے کو قصے شب وصل میں فسانے عدو کے سناتے ہیں آپ…

ادامه مطلب

گل افشانی کے دم بھرتی ہے چشم خوں فشاں کیا

گل افشانی کے دم بھرتی ہے چشم خوں فشاں کیا کیا ہمارے زیب دامن ہے بہار گلستاں کیا کیا کشود مطلب عاشق کے ہیں لب…

ادامه مطلب

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے یہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہے یہ سب کہنے…

ادامه مطلب

دل گیا دل کا نشاں باقی رہا

دل گیا دل کا نشاں باقی رہا دل کی جا درد نہاں باقی رہا کون زیر آسماں باقی رہا نیک ناموں کا نشاں باقی رہا…

ادامه مطلب

ہائے اس شوخ کا انداز سے آنا شب وصل

ہائے اس شوخ کا انداز سے آنا شب وصل اور رہ رہ کے وہ احسان جتانا شب وصل قہر ہے زہر ہے اغیار کو لانا…

ادامه مطلب

بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشق

بھول کر ہرگز نہ لیتے ہم زباں سے نام عشق گر نظر آتا ہمیں آغاز میں انجام عشق واے قسمت دل لگاتے ہی جدائی ہو…

ادامه مطلب