افلاک سے آتا ہے نالوں کا

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہیں خطاب آخر ، اٹھتے ہیں حجاب آخر…

ادامه مطلب

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب گہ محبت ،…

ادامه مطلب

چیونٹی اور عقاب

چیونٹی اور عقاب چیونٹی میں پائمال و خوار و پریشان و دردمند تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند؟ عقاب تو رزق اپنا ڈھونڈتی…

ادامه مطلب

خودی وہ بحر ہے جس کا

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ…

ادامه مطلب

زمانے کی یہ گردش جاودانہ

زمانے کی یہ گردش جاودانہ زمانے کی یہ گردش جاودانہ حقیقت ایک تو ، باقی فسانہ کسی نے دوش دیکھا ہے نہ فردا فقط امروز…

ادامه مطلب

ظلام بحر میں کھو کر

ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا تڑپ جا ، پیچ کھا کھا کر بدل جا نہیں ساحل…

ادامه مطلب

کبھی آوارہ و بے خانماں

کبھی آوارہ و بے خانماں عشق کبھی آوارہ و بے خانماں عشق کبھی شاہ شہاں نوشیرواں عشق کبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش کبھی…

ادامه مطلب

لا پھر اک بار وہی بادہ و

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا…

ادامه مطلب

ملا اور بہشت

ملا اور بہشت میں بھی حاضر تھا وہاں ، ضبط سخن کر نہ سکا حق سے جب حضرت ملا کو ملا حکم بہشت عرض کی…

ادامه مطلب

ہر شے مسافر ، ہر چیز

ہر شے مسافر ، ہر چیز راہی ہر شے مسافر ، ہر چیز راہی کیا چاند تارے ، کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں…

ادامه مطلب

یہ نکتہ میں نے سیکھا

یہ نکتہ میں نے سیکھا بوالحسن سے یہ نکتہ میں نے سیکھا بوالحسن سے کہ جاں مرتی نہیں مرگ بدن سے چمک سورج میں کیا…

ادامه مطلب

باغی مرید

باغی مرید ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان…

ادامه مطلب

تری دنیا جہان مرغ و ماہی

تری دنیا جہان مرغ و ماہی تری دنیا جہان مرغ و ماہی مری دنیا فغان صبح گاہی تری دنیا میں میں محکوم و مجبور مری…

ادامه مطلب

حادثہ وہ جو ابھی پردہ

حادثہ وہ جو ابھی پردہ افلاک میں ہے حادثہ وہ جو ابھی پردہ افلاک میں ہے عکس اس کا مرے آئینہ ادراک میں ہے نہ…

ادامه مطلب

خودی

خودی خودی کو نہ دے سیم و زر کے عوض نہیں شعلہ دیتے شرر کے عوض یہ کہتا ہے فردوسی دیدہ ور عجم جس کے…

ادامه مطلب

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر…

ادامه مطلب

عالم آب و خاک و باد! سر

عالم آب و خاک و باد! سر عیاں ہے تو کہ میں عالم آب و خاک و باد! سر عیاں ہے تو کہ میں وہ…

ادامه مطلب

کبھی تنہائی کوہ و دمن

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی سوز و سرور و انجمن عشق کبھی سرمایہ محراب و منبر کبھی…

ادامه مطلب

لالہ صحرا

لالہ صحرا یہ گنبد مینائی ، یہ عالم تنہائی مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی بھٹکا ہوا راہی میں ، بھٹکا ہوا…

ادامه مطلب

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں شکستہ صف میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں شکستہ صف آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف…

ادامه مطلب

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا…

ادامه مطلب

یہ پیران کلیسا و حرم ،

یہ پیران کلیسا و حرم ، اے وائے مجبوری! یہ پیران کلیسا و حرم ، اے وائے مجبوری! صلہ ان کی کدوی کاوش کا ہے…

ادامه مطلب

ایک نوجوان کے نام

ایک نوجوان کے نام ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی امارت کیا ،…

ادامه مطلب

ترا اندیشہ افلاکی نہیں

ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے تری پرواز لولاکی نہیں ہے یہ مانا اصل شاہینی ہے تیری تری آنکھوں میں بے…

ادامه مطلب

حال و مقام

حال و مقام دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج بندے کو عطا کرتے ہیں چشم نگراں اور احوال و مقامات پہ موقوف ہے…

ادامه مطلب

دعا

دعا ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو صحبت اہل صفا ، نور و حضور…

ادامه مطلب

ساقی نامہ

ساقی نامہ ہوا خیمہ زن کاروان بہار ارم بن گیا دامن کوہسار گل و نرگس و سوسن و نسترن شہید ازل لالہ خونیں کفن جہاں…

ادامه مطلب

عشق سے پیدا نوائے زندگی

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز…

ادامه مطلب

کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں

کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں غلام طغرل و سنجر نہیں میں جہاں بینی مری فطرت ہے…

ادامه مطلب

لینن خدا کے حضور میں

لینن خدا کے حضور میں اے انفس و آفاق میں پیدا ترے آیات حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری ذات میں کیسے…

ادامه مطلب

نادر شاہ افغان

نادر شاہ افغان حضور حق سے چلا لے کے لولوئے لالا وہ ابر جس سے رگ گل ہے مثل تار نفس بہشت راہ میں دیکھا…

ادامه مطلب

ہسپانیہ

ہسپانیہ ہسپانیہ تو خون مسلماں کا امیں ہے مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں خاموش…

ادامه مطلب

یہی آدم ہے سلطاں بحر و

یہی آدم ہے سلطاں بحر و بر کا یہی آدم ہے سلطاں بحر و بر کا کہوں کیا ماجرا اس بے بصر کا نہ خود…

ادامه مطلب

امین راز ہے مردان حر کی

امین راز ہے مردان حر کی درویشی امین راز ہے مردان حر کی درویشی کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی کسے خبر کہ…

ادامه مطلب

ترے سینے میں دم ہے ، دل

ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں ہے ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں ہے ترا دم گرمی محفل نہیں ہے گزر…

ادامه مطلب

حکیمی ، نامسلمانی خودی

حکیمی ، نامسلمانی خودی کی حکیمی ، نامسلمانی خودی کی کلیمی ، رمز پنہانی خودی کی تجھے گر فقر و شاہی کا بتا دوں غریبی…

ادامه مطلب

دگرگوں ہے جہاں ، تاروں

دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی دل ہر ذرہ میں غوغائے…

ادامه مطلب

ستارے کا پیغام

ستارے کا پیغام مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی مری سرشت میں ہے پاکی و درخشانی تو اے مسافر شب! خود چراغ بن اپنا…

ادامه مطلب

عطا اسلاف کا جذب دروں کر

عطا اسلاف کا جذب دروں کر عطا اسلاف کا جذب دروں کر شریک زمرۂ لا یحزنوں ، کر خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں مرے…

ادامه مطلب

قید خانے میں معتمدکی

قید خانے میں معتمدکی فریاد اک فغان بے شرر سینے میں باقی رہ گئی سوز بھی رخصت ہوا ، جاتی رہی تاثیر بھی مرد حر…

ادامه مطلب

ماہر نفسیات سے

ماہر نفسیات سے جرات ہے تو افکار کی دنیا سے گزر جا ہیں بحر خودی میں ابھی پوشیدہ جزیرے کھلتے نہیں اس قلزم خاموش کے…

ادامه مطلب

میری نوائے شوق سے شور

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں حور و…

ادامه مطلب

ہر اک ذرے میں ہے شاید

ہر اک ذرے میں ہے شاید مکیں دل ہر اک ذرے میں ہے شاید مکیں دل اسی جلوت میں ہے خلوت نشیں دل اسیر دوش…

ادامه مطلب

یورپ سے ایک خط

یورپ سے ایک خط ہم خوگر محسوس ہیں ساحل کے خریدار اک بحر پر آشوب و پر اسرار ہے رومی تو بھی ہے اسی قافلہء…

ادامه مطلب

پرواز

پرواز کہا درخت نے اک روز مرغ صحرا سے ستم پہ غم کدۂ رنگ و بو کی ہے بنیاد خدا مجھے بھی اگر بال و…

ادامه مطلب

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ ہے کوتاہ تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ گلا تو گھونٹ…

ادامه مطلب

خانقاہ

خانقاہ رمز و ایما اس زمانے کے لیے موزوں نہیں اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن ‘قم باذن اللہ’ کہہ سکتے…

ادامه مطلب

خوشحال خاں کی وصیت

خوشحال خاں کی وصیت قبائل ہوں ملت کی وحدت میں گم کہ ہو نام افغانیوں کا بلند محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ…

ادامه مطلب

ستاروں سے آگے جہاں اور

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی ، زندگی سے…

ادامه مطلب

عرب کے سوز میں ساز عجم

عرب کے سوز میں ساز عجم ہے عرب کے سوز میں ساز عجم ہے حرم کا راز توحید امم ہے تہی وحدت سے ہے اندیشہ…

ادامه مطلب