اک دانش نورانی ، اک دانش

اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی ہے دانش برہانی ، حیرت کی فراوانی اس پیکر خاکی میں…

ادامه مطلب

پیر و مرید

پیر و مرید مرید ہندی چشم بینا سے ہے جاری جوئے خوں علم حاضر سے ہے دیں زار و زبوں! پیررومی علم را بر تن…

ادامه مطلب

جاوید کے نام – اول

جاوید کے نام دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر نیا زمانہ ، نئے صبح و شام پیدا کر خدا اگر دل فطرت شناس دے…

ادامه مطلب

خودی کے زور سے دنیا پہ

خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا مقام رنگ و بو کا راز پا جا برنگ…

ادامه مطلب

رہ و رسم حرم نا محرمانہ

رہ و رسم حرم نا محرمانہ رہ و رسم حرم نا محرمانہ کلیسا کی ادا سوداگرانہ تبرک ہے مرا پیراہن چاک نہیں اہل جنوں کا…

ادامه مطلب

شیخ مکتب سے

شیخ مکتب سے شیخ مکتب ہے اک عمارت گر جس کی صنعت ہے روح انسانی نکتہء دلپذیر تیرے لیے کہہ گیا ہے حکیم قاآنی ”پیش…

ادامه مطلب

فقر

فقر اک فقر سکھاتا ہے صےاد کو نخچیری اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہاں گیری اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری اک…

ادامه مطلب

کیا عشق ایک زندگی مستعار

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا کیا عشق ایک زندگی مستعار کا کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا وہ عشق جس کی شمع بجھا دے…

ادامه مطلب

مسلماں کے لہو میں ہے

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی…

ادامه مطلب

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی جیتا ہے رومی ، ہارا ہے رازی روشن ہے جام جمشید…

ادامه مطلب

یہ حوریان فرنگی ، دل و

یہ حوریان فرنگی ، دل و نظر کا حجاب یہ حوریان فرنگی ، دل و نظر کا حجاب بہشت مغربیاں ، جلوہ ہائے پا بہ…

ادامه مطلب

اقبال نے کل اہل خیاباں

اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا یہ شعر نشاط آور و پر سوز طرب ناک میں صورت…

ادامه مطلب

تازہ پھر دانش حاضر نے

تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر قدیم گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم…

ادامه مطلب

جوانوں کو مری آہ سحر دے

جوانوں کو مری آہ سحر دے جوانوں کو مری آہ سحر دے پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے خدایا! آرزو میری یہی…

ادامه مطلب

خودی کی شوخی و تندی میں

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں جو ناز ہو بھی تو…

ادامه مطلب

رہا نہ حلقہ صوفی میں سوز

رہا نہ حلقہ صوفی میں سوز مشتاقی رہا نہ حلقہ صوفی میں سوز مشتاقی فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی خراب کوشک سلطان و خانقاہ…

ادامه مطلب

طارق کی دعا

طارق کی دعا یہ غازی ، یہ تیرے پر اسرار بندے جنھیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا…

ادامه مطلب

فلسفہ و مذہب

فلسفہ و مذہب یہ آفتاب کیا ، یہ سپہر بریں ہے کیا! سمجھ نہیں تسلسل شام و سحر کو میں اپنے وطن میں ہوں کہ…

ادامه مطلب

گدائی

گدائی مے کدے میں ایک دن اک رند زیرک نے کہا ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا تاج پہنایا ہے کس کی بے…

ادامه مطلب

مسولینی

مسولینی ندرت فکر و عمل کیا شے ہے ، ذوق انقلاب ندرت فکر و عمل کیا شے ہے ، ملت کا شباب ندرت فکر و…

ادامه مطلب

ہارون کی آخری نصیحت

ہارون کی آخری نصیحت ہاروں نے کہا وقت رحیل اپنے پسر سے جائے گا کبھی تو بھی اسی راہ گزر سے پوشیدہ ہے کافر کی…

ادامه مطلب

یہ پیام دے گئی ہے مجھے

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام…

ادامه مطلب

اگر کج رو ہیں انجم ،

اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا مجھے فکر جہاں…

ادامه مطلب

پھر چراغ لالہ سے روشن

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا…

ادامه مطلب

چمن میں رخت گل شبنم سے

چمن میں رخت گل شبنم سے تر ہے چمن میں رخت گل شبنم سے تر ہے سمن ہے ، سبزہ ہے ، باد سحر ہے…

ادامه مطلب

خودی کی خلوتوں میں گم

خودی کی خلوتوں میں گم رہا میں خودی کی خلوتوں میں گم رہا میں خدا کے سامنے گویا نہ تھا میں نہ دیکھا آنکھ اٹھا…

ادامه مطلب

زمانہ

زمانہ جو تھا نہیں ہے ، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرف محرمانہ قریب تر ہے نمود جس کی، اسی کا مشتاق…

ادامه مطلب

شیر اور خچر

شیر اور خچر شیر ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ کون ہیں تیرے اب و جد ، کس قبیلے سے ہے…

ادامه مطلب

قطعہ

قطعہ انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات یا…

ادامه مطلب

گیسوئے تاب دار کو اور

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر ہوش و خرد شکار کر ، قلب…

ادامه مطلب

مکانی ہوں کہ آزاد مکاں

مکانی ہوں کہ آزاد مکاں ہوں مکانی ہوں کہ آزاد مکاں ہوں جہاں بیں ہوں کہ خود سارا جہاں ہوں وہ اپنی لامکانی میں رہیں…

ادامه مطلب

ہر اک مقام سے آگے گزر

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو کمال کس کو میسر ہوا ہے بے…

ادامه مطلب

یہ دیر کہن کیا ہے ،

یہ دیر کہن کیا ہے ، انبار خس و خاشاک یہ دیر کہن کیا ہے ، انبار خس و خاشاک مشکل ہے گزر اس میں…

ادامه مطلب

الارض للہ

الارض للہ پالتا ہے بیج کو مٹی کو تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب؟ کون لایا کھینچ کر پچھم سے…

ادامه مطلب

ترا جوہر ہے نوری ، پاک

ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے تو ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے تو فروغ دیدۂ افلاک ہے تو ترے صید زبوں افرشتہ…

ادامه مطلب

جمال عشق و مستی نے نوازی

جمال عشق و مستی نے نوازی جمال عشق و مستی نے نوازی جلال عشق و مستی بے نیازی کمال عشق و مستی ظرف حیدر زوال…

ادامه مطلب

خودی ہو علم سے محکم تو

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل عذاب…

ادامه مطلب

روح ارضی آدم کا استقبال

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے کھول آنکھ ، زمیں دیکھ ، فلک دیکھ ، فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا…

ادامه مطلب

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز بچھائی ہے جو…

ادامه مطلب

فلسفی

فلسفی بلند بال تھا ، لیکن نہ تھا جسور و غیور حکیم سر محبت سے بے نصیب رہا پھرا فضاؤں میں کرگس اگرچہ شاہیں وار…

ادامه مطلب

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر راحuلہ!…

ادامه مطلب

مکتبوں میں کہیں رعنائی

مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے؟ مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے؟ خانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے؟ منزل راہرواں دور بھی…

ادامه مطلب

ہر چیز ہے محو خود نمائی

ہر چیز ہے محو خود نمائی ہر چیز ہے محو خود نمائی ہر ذرہ شہید کبریائی بے ذوق نمود زندگی ، موت تعمیر خودی میں…

ادامه مطلب

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز…

ادامه مطلب

افلاک سے آتا ہے نالوں کا

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہیں خطاب آخر ، اٹھتے ہیں حجاب آخر…

ادامه مطلب

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب گہ محبت ،…

ادامه مطلب

چیونٹی اور عقاب

چیونٹی اور عقاب چیونٹی میں پائمال و خوار و پریشان و دردمند تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند؟ عقاب تو رزق اپنا ڈھونڈتی…

ادامه مطلب

خودی وہ بحر ہے جس کا

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ…

ادامه مطلب

زمانے کی یہ گردش جاودانہ

زمانے کی یہ گردش جاودانہ زمانے کی یہ گردش جاودانہ حقیقت ایک تو ، باقی فسانہ کسی نے دوش دیکھا ہے نہ فردا فقط امروز…

ادامه مطلب

ظلام بحر میں کھو کر

ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا ظلام بحر میں کھو کر سنبھل جا تڑپ جا ، پیچ کھا کھا کر بدل جا نہیں ساحل…

ادامه مطلب