دل کا مطالعہ کر اے آگہ حقائق

دل کا مطالعہ کر اے آگہ حقائق
ہیں فن عشق کے بھی مشکل بہت دقائق
چھاتی جلوں کے آگے کھنچتا ہے بیشتر دل
ایک آشنا ہے مجھ سے اس باغ میں شقائق
ہے راستی کہ انساں مشتق ہے انس ہی سے
بیماری دوستی کی ہے دشمن خلائق
جی سارے تن کا کھنچ کر آنکھوں میں آ رہا ہے
کس مرتبے میں ہم بھی ہیں دیکھنے کے شائق
کل میرؔ جی نے ضائع اپنے تئیں کیا ہے
یہ کام تھا نہ ان کی شائستگی کے لائق
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *