خوب بھڑکیلے لباسوں کے سہاروں میں رہو

خوب بھڑکیلے لباسوں کے سہاروں میں رہو
حسن کے حسن کی پیمائش پیہم اگر آساں ہوتی
گو مگو کے کسی عالم میں نہ ہوتی آنکھیں
اے کوئی دیدہء حیرانی موضوع جہاں
رنگ کی اپنی چکا چوند کے منظر کا بھی پس منظر ہے
شورش وہم خدو خال میں بینائی بھٹک سکتی ہے
صاف تختی ہی سمجھ میں نہیں آتی تو عبارت کا
گلہ کیا کرنا
روشنی کی بھی مری جاں وہی عادت ہے
جو محبوب کی ہے
دیکھ ہی کوئی نہیں سکتا انہیں جی بھر کے
عجز ہی عجز ہے اپنا تو مقابل اس کے
ہم نے اب تیرہ شبوں کی بھی قسم کھائی ہے
اپنے آلام کی گم گشتہ بصارت ہی اگر لوٹ آئے
التباسو ں سے بھرے جیون میں یہی کافی ہے
لمس کے اپنے خدوخال سماعت کی طرح
خاک کے خواب میں بارش کو بھی چھو جائیں
تو مٹی ہی لگے
زیادہ تر ہم تو وہی سنتے ہیں پہلے سے سنا ہو جس کو
حسن کے حسن کی پیمائش پیہم اگر آساں ہوتی
گو مگو کے کسی عالم میں نہ ہوتی آنکھیں
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *