تجھ کو بھی خود کو سمجھانا پڑجائے

تجھ کو بھی خود کو سمجھانا پڑجائے
جب بھی دل کا حال سنانا پڑجائے
کیسی کیسی باتیں کرنی پڑتی ہیں
جب بھی دل کی بات چھپانا پڑجائے
میرے پیچھے پیچھے تیرا سایہ ہو
تیرے پیچھے ایک زمانہ پڑجائے
کیا تم نے سوچا ہے کیا عالم ہو اگر
دل کو ہاتھوں ہاتھ گنوانا پڑجائے
تم سے بچھڑیں گے تو مر ہی جائیں گے
تم کو گر یہ عہد نبھانا پڑجائے
تم کیا جانو آنکھیں کی کیا حالت ہو
خوابوں کا گر محل گرانا پڑجائے
لکھّی تقدیروں پر کیا کچھ بیتے گا
ہاتھوں میں جب زخم اٹھانا پڑجائے
ایسا کوئی جرم کروں جس کے بدلے
جیون تیرے سنگ بِتانا پڑجائے
میں بھی حسرت لے کر بیٹھی رہ جاؤں
اور تجھے بھی آنا جانا پڑجائے
فوزیہ ربابؔ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *