میری ہر رات سے باہر ہیں

میری ہر رات سے باہر ہیں ترے ماہ و نجوم
میرے ہر دن سے پرے رہتے ہیں تیرے سورج
خود کو غصے میں جلا کر مری آنکھیں نہ جلا
تجھ سے ملنے ہی تو آیا ہوں اے میرے سورج
ڈوبنے اور اُبھرنے میں بھلے فرق تو ہے
پھر بھی اک جیسا لگے شام سویرے سورج
کیا فقط دن کے اجالے پہ گزارا کرنا
دور کرتا ہی نہیں دُکھ کے اندھیرے سورج
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *