میرؔ کیوں رہتے ہیں اکثر ان منے

میرؔ کیوں رہتے ہیں اکثر ان منے
کر نہیں بنتی کسو سے جو بنے
خون ہو کر بہ گیا مدت ہوئی
دل جو ڈھونڈو ہو سو کیسا کس کنے
ہے تو کل جب سے ہم درویش ہیں
کر ہی چکتے ہیں جو کچھ دل میں ٹھنے
عالم خاکی بھی بسمل گاہ ہے
ہو رہے ہیں ڈھیر یاں سو سو جنے
اس شکار افگن کے ہم بھی صید ہیں
خاک و خوں میں لوٹتے چھاتی چھنے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *