ہم، تم اور پودے

ہم، تم اور پودے
ایک شام
جب پودوں کو پانی نہیں ملا تھا
اور تمہاری عدم موجودگی میں
ہم بھول گئے تھے
تمہارے پودوں کو اور شاید تمہیں بھی
تم بہت ناراض ہوئے
اور ہم شرمندہ
یوں اچانک
بن بتائے
کہاں چلے گئے ہو
کہاں کھو گئے ہو
بہت سی شامیں گزر گئی ہیں
ہم تمہیں بہت یاد کرتے ہیں
ہم تمہیں بھولے نہیں
اور نہ پودوں کو پانی دینا بھولے ہیں
پھر بھی
پودے ہمارے ہاتھ سے دیا ہوا پانی قبول نہیں کرتے
اور مرجھاتے جا رہے ہیں
بالکل ہماری آنکھوں کی طرح
اور ہماری آنکھوں میں کھِلے ہوئے انتظار کی طرح
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *