زندگی تھی مِری

غزل
زندگی تھی مِری اُمڈے ہوئے دریا کی طرح
بن تِرے ہے کسی جھلسے ہوئے صحرا کی طرح
وقت کی ریت پہ حالات کے طوفانوں میں
عمر یہ خاک ہوئی نقشِ کفِ پا کی طرح
پیاس ہونٹوں پہ سجا کر میں اِسی آس میں ہوں
جانے کس روز برس جائیں وہ برکھا کی طرح
دور اندیش نگاہوں کی بصیرت کی قسم
کوئی دشمن نہیں اندیشۂ فردا کی طرح
وقت بدلا ہے مگر ذہن کہاں بدلا ہے
آج بھی ہو گئی تاخیر ہمیشہ کی طرح
ناز تھا اِس دلِ خوش فہم کو جس پر راغبؔ
بے وفا ہو گیا وہ شخص بھی دنیا کی طرح
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: لفظوں میں احساس
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *