جیسے گزر گئے ہوچھو کر

جیسے گزر گئے ہو
چھو کر گزر گئے ہو
ٹھہرے ہوئے ہو لیکن
پھر بھی گزر گئے ہو
اب رہ گئے ہو کتنے؟
کتنے گزر گئے ہو؟
آدھے تو رہ ہی جاتے
سارے گزر گئے ہو
اے دیر کرنے والے
فوراً گزر گئے ہو
چندھیا گئی ہیں آنکھیں
یکدم گزر گئے ہو
رُخصت تو ٹھیک ہوتے
یونہی گزر گزر گئے ہو
خاموش ہیں ہوائیں
یعنی گزر گئے ہو
جب دل نہ مشورے دے
سمجھو گزر گئے ہو
آنکھوں کے سامنے سے
چھپ کر گزر گئے ہو
اب کیا بنے گا اپنا
تم تو گزر گئے ہو
میں سوچ ہی رہا تھا
تم کیوں گزر گئے ہو
طوفان تھم گیا ہے
شاید گزر گئے ہو
اتنی اذیتوں سے
کیسے گزر گئے ہو؟
ایمان سے بتاؤ
سچ مچ گزر گئے ہو؟
ہم مشکلوں میں ہیں، تم
اچھے گزر گئے ہو
دل بین کر رہا ہے
آخر گزر گئے ہو
اب کیا کریں گے تنہا
تم بھی گزر گئے ہو
ہم بھی نہیں رہیں گے
تم جو گزر گئے ہو
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *