اس کے در پر شب نہ کر اے دل خروش

اس کے در پر شب نہ کر اے دل خروش
کہتے ہیں دیوار بھی رکھے ہے گوش
پاؤں پڑتا ہے کہیں آنکھیں کہیں
اس کی مستی دیکھ کر جاتا ہے ہوش
کتنے یہ فتنے ہیں موجب شور کے
قد و خد و گیسو و لعل خموش
مر گیا اس ماہ بن میں کیا عجب
چاندنی سے ہو جو میرا قبر پوش
صافی مے چادر اپنی میں نے کی
اور کیا کرتے ہیں مفلس درد نوش
دوستوں کا درد دل ٹک گوش کر
گر نصیب دشمناں ہے درد گوش
جب نہ تب ملتا ہے بازاروں میں میرؔ
ایک لوطی ہے وہ ظالم سرفروش
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *