خوفزدہ خواہش

خوفزدہ خواہش
یار فرحت شاہ
چلو کسی دن گھر سے باہر نکلیں
کہیں گھومیں پھریں
کوشش کریں کہ لوٹتے وقت راستہ یاد نہ رہے
لوگوں سے ملیں اور خود کو بھولے رہیں
درخت، مکان اور تصویریں دیکھیں اپنے آپ کو پہچان نہ سکیں
کسی کو سڑک پار کرائیں اور ادھر ہی رہ جائیں
کسی بھولے بھٹکے شخص کو اس کے گھر تک چھوڑنے جائیں اور اس سے اپنے گھر کا پتہ پوچھیں
کوئی بہت ہی خوبصورت لڑکی تلاش کریں، اس سے ملیں اور ڈر جائیں
بہت سی کتابیں خریدیں، وہیں چھوڑ آئیں
یار فرحت شاہ
چلو کسی دن کسی دریا کنارے جائیں
اور کنارے تک محدود نہ رہیں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – خیال سور ہے ہو تم)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *