ڈر گئے درد، ستم سہم گئے

ڈر گئے درد، ستم سہم گئے
آپ کے ذکر سے غم سہم گئے
ہم سمندر کی طرح چپ چپ ہیں
وہ سمجھتا ہے کہ ہم سہم گئے
آج کیا ظلم میں قدرت ہے بہت
آج کیا تیرے کرم سہم گئے
ہم نے اس دل سے پکارا مولا
رنج گھبرائے الم سہم گئے
ہائے یہ عرصہء پیمانِ حیات
حوصلے سنبھلے تو دم سہم گئے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – شام کے بعد – دوم)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *