وه فراق اور وه وصال کہاں

وه فراق اور وه وصال کہاں وه فراق اور وه وصال کہاں وه شب و روز و ماه و سال کہاں فرصتِ کاروبارِ شوق کسے…

ادامه مطلب

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو کیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی…

ادامه مطلب

ہم سے کھل جاو بوقتِ مے پرستی ایک دن

ہم سے کھل جاو بوقتِ مے پرستی ایک دن ہم سے کھل جاو بوقتِ مے پرستی ایک دن ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ…

ادامه مطلب

نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے

نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے رہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئے بلا…

ادامه مطلب

نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ

نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ لبوں پہ جان بھی آ جائے گی…

ادامه مطلب

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی…

ادامه مطلب

ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کو

ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کو ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کو عدم کو لے گئے دل میں غبارِ صحرا کو

ادامه مطلب

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے یہ…

ادامه مطلب

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی…

ادامه مطلب

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے تب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے نسیہ و…

ادامه مطلب

کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے

کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے بے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہو…

ادامه مطلب

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سے

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سے کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سے جفائیں…

ادامه مطلب

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس برق سے کرتے ہیں روشن،…

ادامه مطلب

عرضِ نازِ شوخیِ دنداں برائے خندہ ہے

عرضِ نازِ شوخیِ دنداں برائے خندہ ہے عرضِ نازِ شوخیِ دنداں برائے خندہ ہے دعوئی جمعیّتِ احباب جائے خندہ ہے خود فروشی ہائے ہستی بس…

ادامه مطلب

صاف ہے ازبسکہ عکسِ گل سے گلزارِ چمن

صاف ہے ازبسکہ عکسِ گل سے گلزارِ چمن صاف ہے ازبسکہ عکسِ گل سے گلزارِ چمن جانشینِ جوہرِ آئینہ ہے خارِ چمن ہے نزاکت بس…

ادامه مطلب

شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا

شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا شوخیِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھا شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب…

ادامه مطلب

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں…

ادامه مطلب

رہا گر کوئی تا قیامت سلامت

رہا گر کوئی تا قیامت سلامت رہا گر کوئی تا قیامت سلامت پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت جگر کو مرے عشقِ خوں نابہ…

ادامه مطلب

دونوں جہان دے کے وه سمجھے یہ خوش رہا

دونوں جہان دے کے وه سمجھے یہ خوش رہا دونوں جہان دے کے وه سمجھے یہ خوش رہا یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار…

ادامه مطلب

دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ

دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ دل رُک رُک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ…

ادامه مطلب

خط منظوم بنام علائی

خط منظوم بنام علائی خوشی تو ہے آنے کی برسات کے [1] پبیں بادۂ ناب اور آم کھائیں سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہم…

ادامه مطلب

چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر

چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلو رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مُشک بُو کی ناند جو آئے،…

ادامه مطلب

جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی

جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی مشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی…

ادامه مطلب

تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا

تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا سن لیتے ہیں گو ذکر…

ادامه مطلب

بے گانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز

بے گانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز بے گانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز وہ سبزہ سنگ پر نہ اُگا، کوہکن ہنوز فارغ مجھے نہ…

ادامه مطلب

بسکہ ہیں بدمستِ بشکن بشکنِ میخانہ ہم

بسکہ ہیں بدمستِ بشکن بشکنِ میخانہ ہم بسکہ ہیں بدمستِ بشکن بشکنِ میخانہ ہم موئے شیشہ کو سمجھتے ہیں خطِ پیمانہ ہم غم نہیں ہوتا…

ادامه مطلب

آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے ره گئے

آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے ره گئے آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے ره گئے صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا…

ادامه مطلب

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزه غالبؔ

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزه غالبؔ اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزه غالبؔ ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں…

ادامه مطلب

آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال

آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال ہے سوزِ جگر کا بھی اسی طور کا حال تھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئی…

ادامه مطلب

وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے

وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے ولے مجھے تپشِ دل، مجالِ خواب تو…

ادامه مطلب

ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیے

ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیے ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیے وحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیے یعنی ہر بار صُورتِ کاغذِ…

ادامه مطلب

ہم نشیں تارے ہیں، اور چاند شہاب الدیں خاں

ہم نشیں تارے ہیں، اور چاند شہاب الدیں خاں ہم نشیں تارے ہیں، اور چاند شہاب الدیں خاں بزمِ شادی ہے فلک، کاہکشاں ہے سہرا…

ادامه مطلب

ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو

ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو اے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہو اے…

ادامه مطلب

نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز

نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز میں ہوں اپنی شکست کی آواز تو اور آرائشِ خمِ کاکل میں اور اندیشہ ہائے دور دراز [2]…

ادامه مطلب

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آوں

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آوں میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آوں گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی…

ادامه مطلب

ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں

ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں…

ادامه مطلب

مثنوی در صفتِ انبہ

مثنوی در صفتِ انبہ ہاں، دلِ درد مندِ زمزمہ ساز کیوں نہ کھولے درِ خزینۂ راز خامے کا صفحے پر رواں ہونا شاخِ گل کا…

ادامه مطلب

گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفا داری

گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفا داری گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفا داری کیا کرتے تھے تم تقریر،…

ادامه مطلب

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے کس کو سناؤں…

ادامه مطلب

کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے

کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟ نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ…

ادامه مطلب

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آ جائے ہے، مُجھ سے

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آ جائے ہے، مُجھ سے کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آ جائے ہے، مُجھ…

ادامه مطلب

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں بوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے…

ادامه مطلب

عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر

عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر [1] عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر دامن کو اس کے…

ادامه مطلب

شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا

شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا زخم نے داد نہ دی…

ادامه مطلب

شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا

شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا کیا شرح کروں کہ طُرفہ تَر عالَم…

ادامه مطلب

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں! یاد تھیں ہم کو بھی…

ادامه مطلب

رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے

رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے مینائے مے ہے سروِ نشاطِ…

ادامه مطلب

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں [1] گے کیا

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں [1] گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ…

ادامه مطلب

دل تھا، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی

دل تھا، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی دل تھا، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی بیتابیِ رشک و حسرتِ دید سہی ہم اور فُسُردن…

ادامه مطلب

خُجستہ انجمن طُوئے میرزا جعفر

خُجستہ انجمن طُوئے میرزا جعفر خُجستہ انجمن طُوئے میرزا جعفر کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ ہوئی ہے ایسے ہی…

ادامه مطلب