دیکھو میں نے بات تمہاری

دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے
ان آنکھوں میں ہجر کہیں آباد کیا
دن میں قید کیا شب میں آزاد کیا
ساری عمر تمہارے نام لگا ڈالی
عمر کے اک اک لمحے نے برباد کیا
اب سانسوں میں دور تلک ویرانی ہے
دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔
تم نے کہا تھا خوش رہنا، خوش رہتا ہوں
تم نے کہا تھا ہنس دینا، ہنس دیتا ہوں
اور کوئی گر میرے بارے پوچھے تو
تم نے کہا تھا چپ رہنا، چپ رہتا ہوں
پھر بھی مجھ پر اک دکھ کی سلطانی ہے
دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔
اب بھی ہے معمول وہی، دن، رات وہی
دکھ بھی، دکھ کا طول وہی، اور ذات وہی
اب بھی اکثر تم پر غزلیں کہتا ہوں
اب بھی خود سے کرتا ہوں اک بات وہی
چہرہ جیسا ہے، تصویر پرانی ہے
دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔
دکھ دردوں کی محفل خوب سجاتا ہوں
دکھ سہہ سہہ کر اب میں درد بناتا ہوں
دیواروں کے آنسو بہنے لگتے ہیں
ایسے آنکھ میں بھر کر پانی لاتا ہوں
اب تنہائی بھی میری دیوانی ہے
دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *