آگرا ہے یا کھڑا ہے سورج

آگرا ہے یا کھڑا ہے سورج
خواب کے بیچ گڑا ہے سورج
یہ کوئی غم ہے کسی کا یا پھر
آنکھ پر ٹوٹ پڑا ہے سورج
کیا بگاڑا ہے کسی کا میں نے
کیوں مرے ساتھ لڑا ہے سورج
جانے کیوں لگتا ہے ہر وقت مجھے
میرے ماتھے پہ جڑا ہے سورج
اُس کو بتلانا ضروری تو نہیں
تیری چھاؤں سے بڑا ہے سورج
فرحت عباس شاہ
(کتاب – اے عشق ہمیں آزاد کرو)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *