میں مکان ہوں

میں مکان ہوں
میں مکان ہوں
مرے گرد و پیش بھی اونچے اونچے مکان ہیں
مجھے وہم ہے
مری کھڑکیاں بھی ہیں خوف میں
مری سیڑھاں بھی ہیں جانے کب سے ڈری ہوئی
مجھے وہم ہے
یہ جو اونچے اونچے مکان ہیں
کہیں میری سمت نہ چل پڑیں
کہیں میری چھت پہ نہ آپڑیں
یہ تو اٹھ بھی سکتے ہیں گر پڑیں تو
سنبھل بھی سکتے ہیں
چل بھی سکتے ہیں
بیٹھ بھی۔۔۔۔
میں مکان ہوں
مری چھت پہ چلتی ہیں آندھیاں
مرے نیچے ریت ہی ریت ہے
مرے گرد و پیش کے اونچے اونچے مکان پانی بہا رہے ہیں مری طرف
وہ۔۔۔۔
جو مجھ میں عمر سے بس رہے تھے
جو میرے حال پہ خوش نہ تھے
مری چھت سے تھک کے جو کوئی ٹکڑا گرا تو اور سمٹ گئے
انہیں عمر سے
کسی اچھے اور بڑے مکاں کی تلاش ہے
یہاں ان کا گھٹتا ہے دم، مچلتا ہے غم، بگڑتی ہے زندگی
میں مکان ہوں
مری چھت پہ چلتی ہیں آندھیاں
مرے نیچے ریت ہی ریت ہے
مری چھت تلے
مری کمرہ، کمرہ پناہ میں
جو مکیں ہیں
سارے پرائے ہیں
جو یقیں ہیں
سارے پرائے ہیں
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *