وہ کہہ رہی تھی مجھے

وہ کہہ رہی تھی مجھے ہواؤں سے خوف آنے لگا ہے کیونکر
تو میں یہ بولا کہ اب صدائیں تمہیں ڈرائیں گی دیکھ لینا
وہ کہہ رہی تھی کہ پربتوں میں تمہیں صدائیں دیا کروں گی
تو میں یہ بولا سبھی صدائیں پلٹ کے آئیں گی دیکھ لینا
وہ کہہ رہی تھی میں لمحہ لمحہ تمہاری یادوں میں گم رہوں گی
تو میں یہ بولا کہ میری یادیں بہت ستائیں گی دیکھ لینا
وہ کہہ رہی تھی کہ ہم زمانے کو زیر کر لیں گے مل کے دونوں
تو میں یہ بولا یہ رائیگاں ہے مگر یہ کر کے بھی دیکھ لیں گے
وہ کہہ رہی تھی کہ عمر بیتی وجود زخموں سے بھر گیا ہے
تو میں یہ بولا ابھی تو روحوں کے زخم دیکھے ہی کب ہیں تم نے
زین شکیل
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *