نئی خواہش رچائی جا رہی ہے

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فُرقت منائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
ہمارے دل محلے کی گلی سے
ہماری لاش لائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
خوشا اِحوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
دریچوں سے تھا اپنے بیر ہم کو
سو خود دیمک لگائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے!
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
جون ایلیا
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *