تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم

تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم
تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم
تمہارا چاند سا چہرا
ہماری خاص یادوں کے فریموں میں سجا ہے
مسکراتا ہے
تمہارا لمس
احساسات کے نازک دریچوں پر
ابھی تک ثبت ہے
اور جھلملاتا ہے
تمہاری مسکراہٹ
درد کے پچھلے پہر
ویران دروازوں پہ دستک دے کے
گھنٹوں گنگناتی ہے
تمہارے ریشمی رخسار
میری زرد پوروں کے کناروں پر اُگے ہیں
لہلہاتے ہیں
تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم
اداسی یا خوشی کوئی بھی موسم ہو
ہمارے لفظ
سب کچھ بھول کر اک گیت گاتے ہیں
تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم
تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم
تمہیں واپس بلاتے ہیں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – شام کے بعد – دوم)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *